2,670

فحش فلموں کی ملکہ کریسی موران نے پہلی مرتبہ گناہ کے دلدل سے نکلنے کی وجہ بتا دی

فحش فلموں کی ”ملکہ“ کریسی موران نے پہلی مرتبہ گناہوں کی دلدل اور قابل نفرت انڈسٹری چھوڑنے کی وجہ بتا دی ہے اور ساتھ ہی اس انڈسٹری میں ”پھنسی“ خواتین کو نکالنے اور ان کی بحالی کیلئے بھی کام شروع کر دیا ہے جس پر مغربی معاشرے کی بھی آنکھیں کھل گئی ہیں. تقریباً 2 دہائیوں تک فحش فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ نے اپنے کیرئیر کے دوران 50 سے زیادہ فلموں میں کام کیا لیکن اب وہ مذہبی ہو گئی ہے اور دیگر اداکاروں کو اس کام سے روکنے کیلئے ایک طرح سے ’تبلیغ‘ شروع کر دی ہے جبکہ ایسی خواتین جو خود کو اس انڈسٹری میں پھنسا ہوا محسوس کرتی ہیں، انہیں نکالنے کیلئے بھی کام کر رہی ہے۔

کریسی کے مطابق اس کا بچپن انتہائی مشکل رہا اور وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے فحش کاروبار کو بہت ہی نیچ پایااور اس انڈسٹری نے انہیں صرف اور صرف ”کنٹرول اور پیار کے بارے میں غلط پہچان دی.“ کریسی اس وقت فحش فلموں میں کام کرنے والی ایسی اداکاراؤں کی مدد کیلئے مہم چلا رہی ہیں جو خود کو اس انڈسٹری میں پھنسا ہوا محسوس کرتی ہیں اور اس کیلئے اپنی ویب سائٹ بھی بنائی ہے. کریسی 23 سال کی عمر میں اس انڈسٹری میں داخل ہوئی اور2001ءسے 2006ءکے دوران 50 سے زائد فلموں میں کام کیا، وہ اپنے کیرئیر کے دوران 15 ہزار ڈالر ماہانہ تک کماتی رہی. کریسی اس وقت 41 سال کی ہے جس نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ایک ٹوٹے ہوئے خاندان سے ہوں، جہاں جنسی ہراسگی، تعلقات اور پیار کی لت، ذہنی تناؤ اور اس طرح کا بہت کچھ تھا. فحش انڈسٹری میں شمولیت میرے لئے ایک ترقی کا عمل تھا، یہ کچھ ایسا نہیں تھا جسے کرنے کے بارے میں پہلے کبھی سوچا ہو، لیکن اس انڈسٹری نے اس وقت مجھے ڈھونڈا جب میں نے اپنی زندگی کی پرواہ کرنا چھوڑ دی. اس اندھیری جگہ سے میری زندگی میں مزید اندھیرا چھا گیا، فحش فلموں نے مجھے پیار اور کنٹرول کے بارے میں غلط تصور دیا اوراگرچہ میں پیسوں کیلئے اس میں نہیں گھسی تھی لیکن پھر بھی میں ”مالی شکنجے“ میں پھنس گئی.“ انٹرنیٹ پر اب تک گردش کرنے والی ان کی فلموں سے متعلق جب سوال کیا گیا تو کریسی کا کہنا تھا کہ ” مجھے اپنا ماضی ایسی خواتین کی بحالی کیلئے استعمال کر کے خوشی ملی ہے جو میرے نقش قدم پر چل نکلی ہیں.“ اگرچہ کریسی کے بیانات کافی مذہبی ہو گئے ہیں لیکن فحش فلموں کو چھوڑنے کے فیصلے نے کئی سوالات کو بھی جنم دیدیا ہے. اور گناہوں کی دلدل کو عیش و عشرت سمجھنے والا مغربی معاشرے بھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں