46

اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا

اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دربار میں ایک بہروپیا اپنا بھیس بدل کر آیا، بادشاہ نے پہچان لیا، بہروپیے نے انعام مانگا کہ میں نے سانگ رچایا ہے، بادشاہ نے کہا بھئی! میں نے تو پہچان لیا جب نہیں پہچان سکیں گے تو انعام بھی دیں گے،بہروپیے نے کہابہت اچھا، چنانچہ وہ چلا گیا، وہ سوچ میں پڑ گیا کہ میں کون سا روپ اختیار کروں کہ ان کو پتہ نہ چل سکے؟ بالآخر اس کے دل میں بات آئی کہ بادشاہ اللہ والوں کا بڑا قدر دان ہے، یہ خیال آنے کے بعد اس نے شہر کے باہر جا کر ایک جگہ اپنی جھونپڑی لگا لی اور اللہ کا ورد کرنا شروع کر دیا، جو آدمی بھی پاس جاتا وہ اسے واپس بھیج دیتا،

جب اسی طرح وہ ذکر میں لگا رہا تو آہستہ آہستہ اس کی شہرت ہو گئی، لوگوں نے آ کر دعائیں کروانا شروع کر دیں.اورنگ زیب عالمگیر کو بھی ان کا پتہ چل گیا، ان کی عادت تھی کہ جب ان کو پتہ چلتا کہ کوئی اللہ والا ہے تو خود اس کے پاس ملنے کے لیے جاتے تھے، چنانچہ وہ خود بھی گئے اور اپنے وزراء کو بھی لے کر گئے، ان سے دعا کروائی اور ہزاروں دیناروں سے بھری ایک تھیلی ان کو ہدیہ کے طور پر پیش کی، انہوں نے کہا: جی نہیں، ہمیں ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے، ان کی تم دنیا داروں کو ضرورت ہے، لے جاؤ اپنے ساتھ، اورنگ زیب عالمگیرؒ اور زیادہ معتقد ہوئے کہ یہ بندہ تو بے غرض اور بے طمع ہو کر اللہ اللہ کررہا ہے، چنانچہ تھیلی لے کر واپس چلے گئے.ابھی اورنگ زیبؒ جا کر دربار میں بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں وہ بہروپیا آ کر کہنے لگا: بادشاہ سلامت! السلام علیکم.بادشاہ نے کہا: وعلیکم السلام.بہروپیے نے کہا: بادشاہ سلامت انعام دیجئے.بادشاہ نے پوچھا:بھئی! کس بات کا انعام؟اس نے کہا: بادشاہ سلامت! آپ مجھے نہیں پہچان سکے.بادشاہ نے پوچھا: بھئی! میں کیسے نہیں پہچان سکا؟اس نے پوچھا: جی! آپ ابھی جس بندے سے مل کرآئے ہیں وہ کون تھا؟ بادشاہ نے کہا: وہ ایک اللہ والا تھا. بہروپیے نے کہا: بادشاہ سلامت! وہ میں تھا، میں نے اپنے آپ کو ایسا بنا کر پیش کیا کہ آپ نہ پہچان سکیں، لہٰذا آپ مجھے انعام دیجئے.بادشاہ بڑا حیران ہوا اور اس نے اسے انعام دیا لیکن انعام تھوڑا تھا.بہروپیے نے کہا: بادشاہ سلامت! انعام تو بہت کم ہے.بادشاہ نے کہا: میں تو بس یہی دے سکتا ہوں، ہاں! جب تم وہاں تھے تو میں نے تو دیناروں سے بھرا ہوا تھیلا پیش کیا تھا، تم اس وقت قبول کر لیتے تو پورا تھیلا تمہارا ہوتا، اب کیوں انعام کی کمی کا شکوہ کر رہے ہو؟بہروپیے نے کہا: بادشاہ سلامت! جب آپ نے

مجھے تھیلا دیا تھا تو خیال میرے دل میں بھی آیا تھا کہ اچھا موقع ہے، تھیلا ہی لے لیتا ہوں، مگر پھر دل میں خیال آیا نہیں، اگرچہ تو بہروپیا ہے مگر اللہ والوں کا بھیس بنا کر بیٹھا ہوا ہے اگر تو نے تھیلا قبول کر لیا تو اللہ والوں کی مسند بدنام ہو جائے گی کہ اللہ والے بھی اس طرح ہدیہ قبول کرتے ہیں، لہٰذا میں نے وضع قطع کا لحاظ رکھا اور میں نے تھیلے کو ٹھوکر لگا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں