49

ایک ہزار برس کے 25 امیر ترین افراد

مون موسیٰ کے ساٹھ ہزار مرد اور بارہ ہزارکنیزیں غلام تھیں‘حج کے سفر پر اس کا قافلہ مصرسے گزرا تو‘مون موسیٰ نے اتنا سونا تقسیم کیا کہ مصر میں سونے کی قیمت25فیصد تک گر گئیجب سے ہم نے ہوش سنبھالا یہی سنتے آئے کہ دنیا کا امیر ترین آدمی مائیکروسافٹ کا مالک بل گیٹس ہے ‘چاہے جس ادارے ٹی وی یا میگزین نے جس بنیادپر بھی امیر آدمیوں کی لسٹ تیار کی تو اس میں بل گیٹس کا نام سرفہرست ہوتاتھا لیکن اب آپ بھول جائیے بل گیٹس کو کیونکہ دنیا میں ایک ایسا شخص بھی گزراہے

بل گیٹس کے اثاثے جس کے آدھے اثاثوں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ وہ شخص تھا بادشاہوں کا بادشاہ مون موسیٰ ۔مالی کا حکمران جی ہاں افریقی ملک مالی جو آج کل غریب ترین ممالک میں شمار ہوتاہے اور جہاں آج کل القاعدہ کا راج ہے۔ایک امریکی ادارے نے ایک ہزار سال کے پچیس امیر ترین آدمیوں کی ایک لسٹ تیار کی ہے جس میں مون موسیٰ سرفہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے کل اثاثوں کا تخمینہ قریباً چار سو ارب ڈالر لگایاگیا۔ مون1280ء میں پیدا ہوا‘ مالی کے شاہی خاندان میں روایت تھی کہ جب بادشاہ حج کے لئے جاتا تھا تو اپنے پیچھے نائب بادشاہ بنا کر جاتا تھا اگر بادشاہ کو سفر کے دوران کچھ ہوجاتااور واپس نہ آ سکتا تو اس صورتحال میں نائب بادشاہ اقتدار مکمل طورپر سنبھال لیتا۔ ہوا کچھ یوں کہ مون موسیٰ کا باپ بحراوقیانوس میں طوفان کے درمیان پھنس کر لا پتا ہوگیا

اور کبھی واپس نہ آیا جس کے بعد مون مکمل بادشاہ بن گیا۔وہ 1312ء میں اقتدار پربراجمان ہوا ‘اور1237ء تک اس پر قابض رہا۔مون موسیٰ کے دور میں مالی خطے کے امیر ممالک میں شمار کیا جاتا تھا۔ مصر جو ہر دور میں ایک بڑی طاقت رہا ہے لیکن اس دورمیں مالی مصر سے بھی آگے تھا۔ مون کے پاس سونے کا ایک بڑا ذخیرہ جمع تھا چونکہ وہ ایک بڑی سلطنت کا شہنشاہ تھا ۔اس کا جاہ و جلال بھی دیدنی تھا‘ بادشاہ کے دربار میں داخل ہوتے وقت ہر شخص گھٹنوں کے بل جھکتا اور زمین سے مٹی اٹھا کر اپنے اوپر پھینکتا تھا۔ بادشاہ کی موجودگی میں کسی کو جوتے پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ اگرکوئی اس کی خلاف ورزی کرتا تو اس کو پھانسی دے دی جاتی ۔ بادشاہ کے پاس کسی کو چھینکنے کی اجازت بھی نہیں تھی‘

اگر بادشاہ کو چھینک آ جاتی تو پاس بیٹھے افراد سینے کو پیٹتے تھے۔ مون اپنی تعمیرات کے حوالے سے بھی مشہور ہوا۔ اس نے اندلس کے مسلمانوں کا فن تعمیر مالی میں متعارف کروایا۔ انہوں نے ٹمبکٹوکی شاندار تاریخی مسجد بنوائی۔ افسوس کہ آج مالی کی ان شاندار تاریخی عمارتوں کو انتہا پسند تباہ کررہے ہیں ۔مون دنیا بھر سے مسلم سکالرز کو مالی میں مدعو کرتا تھا ‘ اس کے دور میں مالی میں علم کے چشمے بہتے تھے۔1324ء میں مون کی حج کے لئے روانگی بھی تاریخی سفر تھا۔ جس میں قریباً ساٹھ ہزار مرد اور بارہ ہزار غلام تھے۔ دوسرے سامان کے علاوہ آٹھ اونٹ صرف سونے سے لدے تھے‘ یہ قافلہ جس راستے سے گزرا وہا ں داستانیں چھوڑتا چلاگیا۔ یہ قافلہ جب شاہراہ کے قریب سے گزرا تو مصر کے بادشاہ نے رہائش کے لئے مون کو اپنا محل دیا۔

اس قافلے نے تین ماہ مصر میں قیام کیا۔ اپنے قیام کے دوران مون نے مصریوں کو اپنی سخاوت سے خوب نوازا۔ قافلے کے گزرنے کے بعد مصر کی معیشت تباہ ہو گئی کیونکہ مون موسیٰ نے اتنا سونا تقسیم کیا کہ مصر میں سونے کی قیمت25فیصد تک گر گئی۔ یہی حال دوسرے شہروں کا بھی ہوا کیونکہ جہاں سے بھی وہ قافلہ گزرا انہیں اپنی سخاوت سے نوازتاچلا گیا۔ اس سفر میں اس کی بیوی بھی اس کے ہمراہ تھی۔ جس کی خدمت کے لئے پانچ سو کنیزیں مامور تھیں۔ بادشاہ نے سفر کے دوران اس قدردولت خرچ کی کہ واپسی پر ان کے پاس دولت ختم ہو گئی اور انہوں نے مصری تاجروں سے رقم ادھار لی۔ حج کے اس سفر کا خطے میں اور مالی میں اسلام کی ترویج پر اچھا اثر پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ مون موسیٰ قرآنی تعلیمات پر بھی اچھا خاصا عبور رکھتاتھا۔

یہ بادشاہ امیر ترین افراد کی لسٹ کے مطابق میں سر فہرست آیا جبکہ ان25 امیر ترین آدمیوں میں سے14کا تعلق امریکا سے ہے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر یورپین بینکنگ کے شعبے سے منسلک روتھ چائلڈ اور ان کا خاندان ہے۔ روتھ کے اثاثوں کا تخمینہ قریباً350 ارب ڈالر لگا یا جاتا ہے۔اس فہرست میں تیسرے نمبر جان ڈی روک فیلر ہے۔اس کا تعلق امریکا سے ہے اور اس کے اثاثوں کا تخمینہ قریباً340 ارب ڈالر ہے۔ واضح رہے فیلر کے ناقدین اس کو ایک کنجوس شخص قرار دیتے ہیں جو سموکنگ اور دوسری عیاشی پر اپنی دولت خرچ نہیں کرتا۔ اس فہرست میں چھٹے نمبر پر حیدرآباد دکن کا نواب میر عثمان علی خان ہے جس کے اثاثوں کا تخمینہ230ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ واضح رہے حیدر آباد1948ء میں بھارت کے قبضے سے پہلے خودمختار تھا۔

اندازے کے مطابق ان کے ایک محل میں پچاس کے قریب رولز رائس موجود تھیں۔ اس فہرست میں ساتویں نمبر پر لیبیا کے معمر قذاتی ہیں جن کے اثاثوں کا تخمینہ قریباً2 سو ارب ڈالر لگایاجاتا ہے۔ اس فہرست میں جو نام بارہویں نمبرپر ہے اس نام سے ہر کوئی واقف ہے اور وہ بل گیٹس ہے جس کے اثاثوں کا اندازہ قریباً 36ارب ڈالر ہے۔ بل گیٹس اپنے چیرٹی کاموں کی وجہ سے بھی مشہور ہیں جبکہ کارلس سلم کانمبر فہرست میں22واں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں