40

عمران خان کو مت روکو: سہیل وڑائچ

یاد رکھیں! اسٹاپ واچ کے روکنے سے وقت نہیں رکتا۔ گھڑی کو چلنے دیں قوم کا وقت ضائع نہ کریں۔ وہ 30ارکان قومی اسمبلی جون لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں جانا چاہتے ہیں انہیں کیوں روک رکھا ہے؟ انہیں آزاد کریں، سیاست کو چلنے دیں نہر کا پانی مت روکیں، پانی رکنے سے گدلا ہو تا ہے اور گدلی سیاست بالآخر ریاست کو نقصان پہنچاتی ہے۔

نواز شریف نا اہل ہوئے تو عمران خان کے لئے میدان خالی تھا جنگل میں ایک ہی شیر باقی تھا اسی نے دھاڑنا تھا اور اقتدار میں آنے کی بھی اس کی باری تھی مگر کیا ہوا سازش پر سازش شروع ہو گئی ۔ سارا اقتدار ساری طاقت اکیلے عمران کو نہیں دی جا سکتی نواز شریف تو تجربے کی وجہ سے مصلحت سے کام لے لیتا تھا عمران تو پتہ نہیں کیا کر ڈالے گا؟وسوسے سر اٹھانے لگے عمران تو سر پھرا ہے، پتہ نہیں کیا تبدیلیاں لے آئے، عمران تو ضدی ہے اڑ گیا تو پتہ نہیں کس کس سے لڑبھڑ جائے عمران کو خالی میدان نہ دیا جائے……. اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہونی شروع ہو گئیں۔ کسی نے کہا کہ صنم بھٹو کو واپس لائیں ،بلاول کے ساتھ سٹیج پر چڑھائیں، ذوالفقار علی بھٹو کی اکیلی زندہ اور درویش بیٹی پیپلز پارٹی کو زندہ کر دے گی اور یوں عمران اکیلا گھوڑا نہیں رہے گا۔ یہی سوچ ن لیگ چھوڑنے کے لئے تیار ارکان اسمبلی کو فیصلہ کرنے نہیں دے رہی کہ ن لیگ بالکل ہی کمزور ہو گئی تو کہیں عمران اتنا مضبوط نہ ہو جائے کہ ریاست کو اس کی طاقت کے سامنے سر جھکانا پڑ جائے۔

عمران خان کو سازش کی بو آتی ہے تو وہ جلسے پر جلسے کرنا شروع کر دیتا ہے،اس کے پاس یہی تو طاقت ہے جس کی وجہ سے اس کو روکا جا رہا ہے کہا جاتا ہے کہ عمران اور ریاست کا خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی پر مکمل اتفاق ہے وہ تو صرف 200قابل ترین افراد کی مدد سے ملکی معیشت کا نقشہ بدلے گا وہ بطور وزیر اعظم خارجہ اور داخلہ امور سے تعرض نہیں کرے گا صرف اور صرف عوام کی فلاح کو مد نظر رکھے گا اسے اسٹرٹیجک امور سے کوئی غرض نہیں ہو گی۔یہ بالکل غلط سوچ ہے ایسا سوچنے والے یاد رکھیں عمران آیا تو سب کچھ بدلے گا خارجہ پالیسی بھی بدلے گی اور داخلہ پالیسی بھی تبدیل ہو گی۔

کچھ کہتے ہیں کہ عمران خان پر تاجروں کو اعتماد نہیں تاجر اپنا سیاسی قبلہ بھی بدلنا چاہتے ہیں اسحاق ڈار نے بینک اکائونٹس اور لین دین پر جو پابندیاں اور ٹیکس لگائےتھے وہ تاجروں کو سخت نا پسند ہیں لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان ٹیکس کے حوالے سے نرمی کی پالیسی کا اعلان کرے ۔تاجروں کا خیال ہے کہ عمران خان تاجروں سےاور زیادہ ٹیکس لے گا اس لئے بطور برادری وہ اپنا سیاسی قبلہ بدلنے میں متامل ہیں، عمران خان کو جاننے والے کہتے ہیں کہ عمران خان سیاسی مصلحت کی خاطر ایسا بیان دینے کے لئے فی الحال تیار نہیں ہے۔

بعض نکتہ بین یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ عمران خان پر کیا قومی فیصلوں کے حوالے سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا ؟ ان ’’سیانوں‘‘ کا خیال ہے کہ قومی فیصلے بڑی عاقبت اندیشی اور مصلحت آمیزی پر مبنی ہوتے ہیں عمران خان کو تو صرف سیاہ اور سفید رنگ نظر آتے ہیں وہ سرمئی رنگ کو دیکھ نہیں پاتے حالانکہ زیادہ تر فیصلے سرمئی رنگ کے حوالے سے کرنے پڑتے ہیں ۔ یہ اعتراض بالکل بے جا ہے کیونکہ عمران خان کا بین الاقوامی امور اور سیاسی امور پر مشورے کا میدان بہت وسیع ہے تاریخ نویس ڈارکمپل، ششی تھرور،پاکستانی دانشور، ریٹائرڈ جنرل اور دنیا کے بہت سے نامور لوگ اس کےذاتی حلقہ احباب میں ہیں وہ دنیا کی تازہ ترین کتب پڑھتا ہے، اس کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس کی ہر رائے کے پیچھے ضد یا اصرار نہیں بلکہ دلائل ہی ہوتے ہیں۔ بعض تشکیک پسند عمران خان کی ٹیم کے بھی شاکی ہیں کہ یہ سارے کے سارے انڈر 19ہیں نا تجربہ کار ہیں سوائے شاہ محمود قریشی کے کسی کو قومی سطح کا تجربہ نہیں ہے۔ اس شک کا شافی جواب یہ ہے کہ بھٹو کی ٹیم میں کونسا تجربہ کار تھا مگر اس ٹیم نے وہ کر دکھایا جو نہ اس وقت تک ہوا تھا اور نہ آج تک ہو سکا ہے۔

ذرا رکیے!آپ سوچیں گے کہ میں کیوں چاہتا ہوں کہ عمران کو مت روکا جائے۔میں اس لئے چاہتا ہوں کہ مجھے تمام تر لغزشوں کے باوجود جمہوری سیاستدانوں سے محبت ہے اور جس سے لوگ محبت کرتے ہوں جمہوریت پسند اسے نا پسند کیسے کر سکتا ہے؟میری رائے میں اگر عمران کو اکثریت ملتی ہے تو اسے حکومت بنانے کا پورا جمہوری حق ہے اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا بھی اسی طرح غیر جمہوری ہے جیسے نواز شریف کو ہٹانے کے لئے سیاسی قوتوں کے علاوہ دیگر قوتوں کی دخل اندازی۔

تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں عمران کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو ختم کرنا ضروری ہے، وہاں عمران خان کا بھی فرض ہے کہ وہ واضح اعلان کرے کہ آئین اور جمہوریت کے مطابق کوئی بھی عبوری حکومت 3ماہ سے زیادہ نہیں چلنے دی جائے گی۔

میری نظر میں عمران خان مارشل لاء کے نفاذ یا کسی بھی ٹیکنو کریٹ حکومت کے خلاف ہیں لیکن ن لیگ کا یہ اندیشہ بھی بے سبب نہیں کہ عبوری حکومت کو 3ماہ سے زیادہ دے کر سیاست کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی جائے گی۔ عمران خان کو چاہئے آگے بڑھے حکومت، اپوزیشن اور فوجی قیادت کے درمیان الیکشن شیڈول، نگران کا بینہ اور دیگر سیاسی امور کے بارے میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کروائے تاکہ پوری قوم کو ملک کے آگے چلنے کا کوئی واضح راستہ نظر آئے۔ اگر اس طرح کے اجلاس میں دیر کی گئی تو ن لیگ جلد الیکشن پر رضا مند نہیں ہو گی پی ٹی آئی اور پی پی پی کو ان کی ٹرم مکمل کرنے اور سینٹ کے الیکشن پر اعتراض رہے گا یوں ہر آنے والا دن دھماکہ خیز ہو گا۔ عمران خان آگے بڑھیں۔ صرف آپ ہی یہ ڈائیلاگ کروا سکتے ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں