40

چین میں گدھوں کی ڈیمانڈ کیوں؟

چین میں گدھوں کی ڈیمانڈ کیوں ؟ تحریر: ڈاکٹر فراز
دنیا میں سب سے ز یادہ گدھے کہاں پائے جاتے ہیں؟ اس کا کسی کو علم نہیں، امریکہ کو بھی علم نہیں۔امریکہ کا ذہین ترین جانورشمار ہونے کے باوجو د گدھوں پر خاص تحقیق نہیں ہوئی۔ امریکی عام انتخابات کے موقع پر گدھے کا ذکر دلچسپی سے کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی بڑی سیاسی جماعت کا ا نتخابی نشان بھی ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کو گدھے کا نشان چننے پر کبھی حیرت نہیں ہوئی۔کیونکہ ان کی سوچ ہم سے 180درجے مختلف ہے۔

ہم الّو کو بھی الّو سمجھتے ہیں لیکن غیر ملکی دانشوروں کے نزدیک الّو ذہین جانور ہے۔ چند برسوں کے اندر اندر چین میں 50لاکھ گدھوں کی کھالوں سے بننے والی دوائیں خواتین نے اپنے اپنے منہ پر لگا لیں یا پھر جیلی ٹین کی صورت میں کھا لیں۔ صحت مند جلد،خوش نما چہرے ،دوران خون کی بہتری اور انیمیا جیسی اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے گدھے کی کھال سے بننے والی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ پہلے پہل یہ دوائیں صرف چین میں مقبول تھیں مگر اب امریکی خواتین کو بھی گدھے کی کھال سے بننے والی ادویات راس آ گئی ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بھی ان کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کھال جوتے بنانے، ڈیکوریشن پیس یا ملبوسات بنانے میں استعمال ہوتی ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے۔ گدھے کی کھال سے کئی مہنگی ترین ادویات تیار ہوتی ہیں۔ ’’ایجاؤ‘‘ نامی دوا گدھے کی کھال سے تیار کی جاتی ہے ، گدھا بھی 5مہینے کا خالص، نوجوان ہونا چاہیے۔بوڑھا گدھا نہیں چلے گا! ۔’’ایجائو‘‘ در حقیقت جیلی نما سیال ہے، جسے پانی یا دودھ میں گھول کر پیا جاتا ہے۔

چینی ماہر ین کے مطابق اس سے قدرتی حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔ چہرے کی کریموں میں بھی یہی سیال استعمال کیا جاتا ہے ،یہ بڑھاپا بھگانے کے کا م آتا ہے ، انسو مینیا کا بھی بہترین علاج ہے۔ اس کی تیار شدہ بیوٹی پراڈکٹس اب تو امریکی عورتیں بھی کافی خرید رہی ہیں ۔ کتنے گن ہیں میرے گدھے میں۔۔ گدھوںکی ہلاکت کا طریقہ بھی خاص ہی ہے۔سب سے پہلے سرپر ایک ہتھوڑی ماری جاتی ہے، تاکہ کھال میںخون کی گردش بڑھ جائے ،سر تن سے جدا کرنے کے بعد چینی ماہرین اسے ادویہ ساز اداروں میں بھجوا دیتے ہیں۔گدھے کی کھال سے جیلی ٹین تیار کی جاتی ہے۔ یہ خصوصی جیلی ٹین عام جیلی ٹین کے مقابلے میں کہیں زیادہ مفیدہے۔یہ ہم نہیں کہہ رہے ،چینیوں کا کہنا ہے ۔ہم نے تو دوا دیکھی بھی نہیں ۔تاہم چینی ماہر ڈاکٹر لی یومین کے مطابق گدھے کی کھال ہی واحد ذریعہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق گھوڑوں، گائیوں اور ایک حرام جانور کی کھال سے بھی’’ ایجائو ‘‘ تیار کی جاسکتی ہے۔پھرہربل اور دوسری جدید ادویات بھی دستیاب ہیں ۔لہٰذا’’ ایجائو ‘‘واحد بہترین دوا نہیں ہے۔اسی دوا کی تیاری کی وجہ سے چین میں گدھوں کی تعداد گزشتہ دوعشروں میں 1.10کروڑ سے کم ہو کر 60لاکھ رہ گئی ہے۔ ایشیائ، اورمشرق وسطیٰ کے گدھوں کی چین میں بہت مانگ ہے۔ چنانچہ اب چینیوں کی جان ان تین جانوروں میں لٹکی ہوئی ہے۔ تاہم 2016 ء میں کئی افریقی ممالک میں گدھوں کی افزائش نسل رک جانے کی وجہ سے انہو ں نے چین میں گدھے بھیجنے پر پابندی عائد کر دی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں