36

پاکستانیوں کیلئے تشویشناک خبر، سعودی عرب کے بعد عرب امارات نے بھی قانون بدل ڈالا

ابوظہبی (اوورسیز نیوز) سعودی عرب کی دیکھا دیکھی متحدہ عرب امارات نے بھی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کی درجہ و گروہ بندی کا قانون متعارف کروا دیا، غیر ملکیوں کی اقامہ فیس بھی اب اسی گروپ بندی کی مناسبت سے طے ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ملک میں کام کرنے والی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو درجہ و گروہ بندی کا قانون متعارف کروا دیا گیا ہے،کابینہ کے ایک حالیہ فیصلے کی روشنی میں ان کمپنیوں اور اداروں کوملازمین کی مہارت اور ثقافتی تنوع کی بنیاد پر تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اقامہ کی فیس کا تعین نہ صرف ملازم کی مہارت و صلاحیت کی بنیاد پر ہوگا بلکہ کمپنی کی کیٹیگری بھی اس پر اثر انداز ہوگی۔

وہ کمپنیاں جو اماراتی شہریوں وخلیجی ممالک کے شہریوں کو ملازم رکھیں گی اقامہ کی فیس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اماراتی شہریوں، اداروں کی ملکیتی ماہی گیر کشتیوں، ایمرٹائزیشن پارٹنرز کلبوں کو اول کیٹیگری میں رکھا گیا ہے ۔ ثقافتی تنوع کی حامل کمپنیوں کو کیٹیگری دوئم میں رکھا گیا ہے اور اس کی اقسام A, B, Cاور Dہوں گی۔

دو سال کے لئے اقامہ جاری کرنے کی فیس فرسٹ کیٹیگری کے ملازم کے لئے 300 درہم ہے۔ سیکنڈ کلاس کمپنیوں کے لئے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے اقامہ فیس 500 درہم، نیم مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 1200 درہم، لیول بی کے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 1000ہزار درہم، نیم مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 2200 درہم، لیول سی کے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 1500 درہم، نیم مہارت یافتہ کے لئے 2700درہم، لیول ڈی کے مہارت یافتہ ملازمین کے لئے 2000 درہم اور نیم مہارت یافتہ کے لئے 3200 درہم ہوگی۔ تیسری کیٹیگری سے تعلق رکھنے والے غیرملکی ملازمین کے لئے اقامہ کی فیس 5000 درہم رکھی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں